عاصم بخاری ۔۔۔ بات افسوس کی ہے دکھ کی بھی

بات افسوس کی ہے دکھ کی بھی
۔۔۔۔
بات افسوس کی ہے دکھ کی بھی
شرم کی بھی ہے کچھ حیا کی بھی
بات حیرت کی بھی ہے سوچیں تو
زیب دیتا ہے کیا ہمیں بولو
چاند آتے نظر ہی رمضاں کا
مہ مبارک کا پاس کیا رکھا
روزہ داروں کو اس کے پیاروں کو
بیچ کے مہنگے داموں اشیا سب
عازمِ عمرہ آخری عشرے
کچھ تو خوفِ خدا کیا جائے
دھوکاخود کو نہ یوں دیا جائے
دل کی تسکین کا سنو ساماں
اس کے بندوں کے کام آنے میں
چین خدمت میں ہے عبادت میں
چین دنیا میں کب ہے دولت میں
زندگی میں سکوں ملے کیسے
لطف اندوز ہو نہیں سکتے
کون کہتا سکون پیسے میں
بھول بیٹھے ہو راہ ایسے میں
ہر گھڑی ایک سوچ ہی میں گم
پیسے کیسے کے چکروں میں تم

Related posts

Leave a Comment